کیا اسلام پر عمل دنیاوی خوشحالی اور معاشی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے؟

 Worl

کیا اسلام پر عمل دنیاوی خوشحالی اور معاشی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے؟


d

اسلامی تعلیمات

کیا اسلام پر عمل دنیاوی خوشحالی اور معاشی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے؟

قرآن کریم، احادیث نبوی اور علمائے کرام کی روشنی میں ایک گہری اور حقیقت پسندانہ جائزہ جو آپ کے ذہن میں اٹھنے والے اہم ترین سوال کا جواب دیتا ہے۔

WorldAtNet Editorialجون ۲۰۲۶تقریباً ۳۰۰۰ الفاظاسلامی تعلیمات

یہ سوال آج کے دور کا ایک انتہائی اہم اور حساس سوال ہے جو لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں اٹھتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ نماز پڑھیں، روزے رکھیں، زکوٰۃ دیں اور دیگر فرائض ادا کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بھی امیر اور خوشحال کر دے گا۔ دوسری طرف کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مذہب اور دنیاوی ترقی کا کوئی تعلق نہیں۔ اس مضمون میں ہم اس سوال کا جواب قرآن کریم، سنت نبوی اور علمائے کرام کی تشریحات کی روشنی میں تلاش کریں گے اور حقیقت کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

اسلام کا بنیادی مقصد: دنیا یا آخرت؟

اسلام کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ اسلام کا اصل اور حتمی مقصد دنیاوی خوشحالی نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام دنیا کو نظرانداز کرتا ہے یا دنیاوی ترقی کے خلاف ہے۔

وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِسورۃ الذاریات: ۵۶

اسلامی علماء نے اس آیت کی تشریح میں بیان کیا ہے کہ عبادت صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی مرضی کے مطابق عمل کرنا عبادت ہے۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں بلکہ عبادت خود انسان کے فائدے کے لیے ہے کیونکہ اس سے انسان کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا راستہ پاتا ہے۔

قرآن اور دنیاوی خوشحالی: ایک متوازن نقطہ نظر

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کا ایک متوازن تصور پیش کیا ہے۔ ایک طرف وہ دنیاوی زندگی کو عارضی اور دھوکے کا سامان قرار دیتا ہے تو دوسری طرف وہ مسلمانوں کو حلال رزق کمانے اور اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت اور ترغیب بھی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام محنت، تجارت اور رزق کی تلاش کو نہ صرف جائز بلکہ مطلوب قرار دیتا ہے۔

فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِسورۃ الجمعۃ: ۱۰

علامہ سید قطب رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر "فی ظلال القرآن" میں اس آیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اسلام عبادت اور معاش کے درمیان کوئی تضاد نہیں دیکھتا بلکہ دونوں کو انسانی زندگی کے لازمی اجزاء کے طور پر پیش کرتا ہے۔ دنیا کو آخرت کے لیے استعمال کرنا ایک اعلیٰ اسلامی قدر ہے اور حلال رزق کمانا بھی عبادت کا حصہ ہے۔

توبہ اور استغفار سے رزق میں اضافہ: حقیقت یا مبالغہ؟

قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ بیان ہے جہاں انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے رب سے مغفرت مانگو کیونکہ وہ بہت معاف کرنے والا ہے اور وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش بھیجے گا اور تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا اور تمہارے لیے باغ لگائے گا اور نہریں جاری کرے گا۔ اس آیت سے بعض لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صرف استغفار کرنے سے مال و دولت مل جاتی ہے۔ لیکن علمائے کرام نے اس آیت کی تفسیر میں وضاحت کی ہے کہ یہ ایک وعدہ ہے جو مخصوص شرائط اور وسیع تر ایمانی اور عملی زندگی کے ساتھ پورا ہوتا ہے نہ کہ صرف ایک الگ تھلگ عمل سے۔

فَقُلۡتُ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارٗا يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا وَيُمۡدِدۡكُم بِأَمۡوَٰلٖ وَبَنِينَسورۃ نوح: ۱۰ تا ۱۲

مفسر قرآن مولانا مودودی رحمہ اللہ نے "تفہیم القرآن" میں لکھا ہے کہ استغفار محض زبانی الفاظ نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے توبہ، غلطیوں کا احساس اور اللہ کی طرف رجوع کا نام ہے۔ جب کوئی قوم یا فرد واقعی اپنی اصلاح کرے اور خود کو اللہ کے احکامات کے مطابق ڈھالے تو اللہ کی رحمت اور برکت اس پر نازل ہوتی ہے۔ لیکن یہ ایک خودکار مشین کی طرح نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی حکمت اور مشیت کے مطابق ہوتا ہے۔

تقویٰ اور رزق کا تعلق: قرآنی آیت کی صحیح تفہیم

سورۃ الطلاق میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے مشکلوں سے نکلنے کی راہ بناتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو۔ یہ آیت اسلامی ادب میں سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی آیات میں سے ایک ہے جب بات رزق اور خوشحالی کی ہو۔ تاہم یہ آیت تقویٰ کو رزق سے مشروط کرتی ہے اور تقویٰ صرف نماز روزے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع اسلامی طرز زندگی کا نام ہے جس میں محنت، دیانتداری، عدل، امانت اور حلال ذرائع سے کمائی سب شامل ہیں۔

وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا وَيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُسورۃ الطلاق: ۲ تا ۳

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ تقویٰ ایک ایسی شان ہے جس سے انسان کی پوری زندگی ایک خاص نظم اور ترتیب میں آ جاتی ہے۔ متقی شخص نہ صرف حلال کماتا ہے بلکہ اپنے مال کو صحیح جگہ خرچ کرتا ہے، ظلم اور دھوکے سے باز رہتا ہے اور اس طرح معاشرے میں اپنی ساکھ اور اعتبار بناتا ہے جو بالآخر مادی فوائد کا سبب بھی بنتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی زندگی اور صحابہ کرامؓ کا نمونہ

اگر ہم یہ سمجھنا چاہیں کہ اسلام پر عمل اور دنیاوی خوشحالی کا اصل تعلق کیا ہے تو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین مثال ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں کبھی کبھی ایسے حالات بھی برداشت کیے جب گھر میں فاقے ہوتے تھے اور چولہا نہ جلتا تھا۔ کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ حضور ﷺ تقویٰ میں کمزور تھے؟ یقیناً نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیاوی خوشحالی مومن کی کامیابی کا پیمانہ نہیں ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"صحیح مسلم: کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر ۲۵۶۴

اس حدیث سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے مال و دولت کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کے دل اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عثمانؓ جیسے صحابہ بہت صاحب ثروت تھے لیکن حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت مصعب بن عمیرؓ کے پاس دنیاوی مال کم تھا اور دونوں ہی جنت کی بشارت پانے والوں میں سے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں دنیاوی دولت کامیابی کا معیار نہیں بلکہ اصل معیار اللہ کی رضا اور نیک اعمال ہیں۔

محنت اور توکل کا اسلامی توازن

اسلام ایک طرف توکل علی اللہ کا درس دیتا ہے تو دوسری طرف محنت اور کوشش کو بھی ضروری قرار دیتا ہے۔ ایک مشہور حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ کیا وہ اونٹ باندھ کر توکل کریں یا آزاد چھوڑ کر؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پہلے باندھو پھر توکل کرو۔ یہ ایک اصولی سبق ہے جو بتاتا ہے کہ محنت اور کوشش چھوڑ کر محض دعا اور عبادت پر انحصار کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ، أَوْ أُطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ؟ قَالَ: "اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ"سنن الترمذی: حدیث نمبر ۲۵۱۷، علامہ البانی نے حسن قرار دیا

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "مدارج السالکین" میں توکل کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے اور فرمایا ہے کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں بلکہ تمام ممکنہ اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ پر بھروسہ رکھنا ہے۔ جو شخص اسباب کو ترک کرکے صرف توکل کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی سنت کا انکار کرتا ہے کیونکہ اللہ نے دنیا کو اسباب و نتائج کے اصول پر بنایا ہے۔

"اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے"
— سورۃ الرعد: ۱۱

تقدیر اور کوشش کا رشتہ

اسلام میں تقدیر پر یقین ایمان کا ایک اہم رکن ہے لیکن تقدیر پر ایمان کا مطلب جبر یا بے عملی نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے کہ وہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ یہ آیت ایک انقلابی سوچ کو جنم دیتی ہے جو بتاتی ہے کہ تبدیلی کا آغاز خود انسان سے ہوتا ہے اور اللہ اس تبدیلی میں برکت ڈالتا ہے۔ یہ اسلام کی وہ متوازن تعلیم ہے جو نہ تو انسان کو مجبور محض سمجھتی ہے اور نہ ہی اسے خودمختار اور اللہ سے بے نیاز۔

علماء کرام نے وضاحت کی ہے کہ اسلامی تاریخ میں وہ دور جب مسلمان سائنس، تجارت، زراعت اور فنون میں آگے تھے وہی دور تھا جب وہ دینی تعلیمات پر بھی بہتر طریقے سے عمل کر رہے تھے۔ دارالعلوم اور مساجد کے ساتھ ساتھ وہ بازار اور تجارتی مراکز بھی تھے جو اخلاقی اقدار پر قائم تھے۔ عمل اور دین ساتھ ساتھ چلتے تھے اور یہی اسلام کی اصل روح ہے۔

رزق کی فکر اور قرآنی تسلی

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو رزق کی فکر سے آزاد کرنے کے لیے بار بار تسلی دی ہے۔ ایک آیت میں ارشاد ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔ یہ آیت ایک گہرا ایمانی اطمینان پیدا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ تاہم اس ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ رزق بغیر کسی کوشش کے مل جائے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کوشش کرے گا اللہ اس کی کوشش کو ثمر آور بنائے گا اور جو معذور ہو اس کا بھی اللہ کفیل ہے۔

وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَاسورۃ ھود: ۶

دنیاوی آزمائش اور مومن کا مقام

اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ دنیاوی تنگی اور مصیبت ہمیشہ اللہ کی ناراضگی کی علامت نہیں بلکہ بعض اوقات یہ اللہ کی خاص محبت اور آزمائش کی نشانی ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے اور جو صبر کرے اسے اللہ چن لیتا ہے۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ غربت یا مشکلات کو اسلامی ناکامی نہیں سمجھنا چاہیے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش، حضرت یوسف علیہ السلام کی قید اور حضرت محمد ﷺ کی مکی زندگی کی مشکلات اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "عِظَمُ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ"سنن الترمذی: حدیث نمبر ۲۳۹۶، امام ترمذی نے حسن قرار دیا

امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "احیاء علوم الدین" میں دنیاوی مصیبتوں پر صبر اور ان کے روحانی فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیاوی آزمائش مومن کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے اور اس کے درجات کو بلند کرتی ہے۔ اس لیے دنیاوی تنگی کو ایمانی کمزوری پر نہیں محمول کرنا چاہیے۔

اسلامی معاشیات اور خوشحالی کا تصور

اسلام نے معاشیات کے بارے میں ایک انتہائی جامع اور منفرد نظریہ پیش کیا ہے۔ زکوٰۃ کا نظام غریبوں اور امیروں کے درمیان معاشی توازن قائم کرتا ہے۔ سود کی ممانعت ایک منصفانہ مالیاتی نظام کو فروغ دیتی ہے۔ حلال اور حرام کی تقسیم ایسے معاشی اعمال سے روکتی ہے جو دوسروں کو نقصان پہنچائیں۔ اسلامی معیشت کا ہدف یہ ہے کہ پوری معاشرت کو خوشحال بنایا جائے نہ کہ صرف چند افراد کو۔

مشہور اسلامی ماہر معاشیات ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے لکھا ہے کہ اسلام نے جو معاشی نظام دیا ہے وہ نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی خوشحالی کا ضامن ہے بشرطیکہ اس پر مکمل اور ایمانداری سے عمل کیا جائے۔ آج کے مسلم ممالک کی معاشی مشکلات کا سبب اسلامی معاشیات کا ناکام ہونا نہیں بلکہ اس پر مکمل عمل نہ کرنا ہے۔

کیا غیر مسلم کی دنیاوی کامیابی اسلامی نظریے کو رد کرتی ہے؟

ایک عام اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ آج کی دنیا میں بہت سے غیر مسلم بے حد خوشحال اور کامیاب ہیں جبکہ مسلمان پسماندہ ہیں۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام پر عمل دنیاوی کامیابی کی ضمانت نہیں؟ اسلامی نقطہ نظر سے اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام "اسباب و نتائج" پر مبنی ہے۔ جو بھی محنت کرے علم حاصل کرے ایمانداری اختیار کرے اور نظم و ضبط سے کام لے اللہ اسے دنیاوی فوائد دیتا ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ یہ اللہ کا قانون قدرت ہے جو سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔

علامہ اقبال نے اس نکتے کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ جنہوں نے دنیا میں اللہ کی سنتوں یعنی محنت علم اور نظم سے کام لیا انہیں دنیا ملی چاہے ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔ لیکن مسلمانوں کو صرف دنیا ہی نہیں آخرت بھی مطلوب ہونی چاہیے اور وہ صرف ایمان اور عمل صالح سے حاصل ہوگی۔

برکت اور خوشحالی میں فرق

اسلام نے "برکت" کا ایک خاص تصور دیا ہے جو محض مادی دولت سے بہت مختلف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حلال تھوڑا بھی حرام بہت سے بہتر ہے۔ ایک مسلمان کے لیے کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں کتنا پیسہ ہے بلکہ یہ ہے کہ اسے جو ملا ہے اس میں برکت ہے یا نہیں۔ ایک خاندان جو معمولی آمدنی میں خوش، مطمئن اور صحت مند زندگی گزارتا ہو وہ اس امیر شخص سے زیادہ خوشحال ہے جو اربوں کا مالک تو ہو لیکن ذہنی سکون سے محروم ہو۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ"صحیح البخاری: حدیث نمبر ۶۴۴۶، صحیح مسلم: حدیث نمبر ۱۰۵۱

اس حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اصل مالداری مال و دولت کی کثرت نہیں بلکہ دل کی بے نیازی اور قناعت ہے۔ یہ اسلام کا وہ انقلابی نظریہ ہے جو مادیت پرستانہ دنیا کو ایک نئی سوچ سے متعارف کراتا ہے کہ خوشحالی کا پیمانہ مادی مقدار نہیں بلکہ روحانی اطمینان ہے۔

اسلامی علماء کا متوازن موقف

معاصر علمائے کرام جیسے شیخ یوسف القرضاوی نے اپنی کتاب "فقہ الزکاۃ" اور دیگر تحریروں میں بیان کیا ہے کہ اسلام نہ صرف آخرت بلکہ دنیا کی بھی فکر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کو ایک ساتھ دونوں کی فکر کرنی چاہیے اور دعا کرنی چاہیے جیسا کہ قرآن نے بتایا ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی نیکی دے اور آخرت میں بھی نیکی دے۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ اسلام دنیا کو مکمل رد نہیں کرتا بلکہ اسے آخرت کی تیاری کا میدان بناتا ہے۔

رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ حَسَنَةٗ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِسورۃ البقرۃ: ۲۰۱

مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو احاطہ کرتا ہے۔ جو مسلمان دینی تعلیمات پر مکمل عمل کریں ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی بہتر ہوگی لیکن یہ بہتری صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی سماجی اور روحانی بھی ہوگی۔

خلاصہ: اسلام اور خوشحالی کا صحیح رشتہ

تمام قرآنی آیات احادیث نبوی اور علمائے کرام کی تشریحات کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اسلام پر عمل دنیاوی خوشحالی اور معاشی کامیابی کی خودکار ضمانت نہیں دیتا لیکن یہ ضرور کرتا ہے کہ وہ انسان کو ایسی راہ پر گامزن کرتا ہے جو مادی اور روحانی دونوں اعتبار سے بہترین نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام پر عمل کرنے والا شخص محنتی دیانتدار اور انصاف پسند ہوتا ہے جو دنیاوی کامیابی کے بنیادی اوصاف ہیں۔ ساتھ ہی وہ قناعت توکل اور صبر سے لیس ہوتا ہے جو اسے ہر حال میں مطمئن رکھتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ اسلام دنیا کی اس زندگی کو ایک امتحان گاہ قرار دیتا ہے جہاں کچھ کو آزمایا جاتا ہے مال کی فراوانی سے اور کچھ کو تنگی سے۔ دونوں صورتوں میں کامیاب وہ ہے جو اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کے احکامات پر عمل کرے۔ دنیاوی خوشحالی کو مذہب کی صداقت کا پیمانہ بنانا ایک بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ اللہ کی نگاہ میں قیامت کے دن نہ کوئی دولت کام آئے گی نہ اولاد بلکہ صرف وہ دل جو سلامتی اور ایمان سے لبریز ہو۔

يَوۡمَ لَا يَنفَعُ مَالٞ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنۡ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلۡبٖ سَلِيمٖسورۃ الشعراء: ۸۸ تا ۸۹

اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی صحیح تفہیم نصیب کرے۔ ہمیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی عطا فرمائے اور ہمیں ایسے مسلمان بنائے جو نہ صرف عبادات میں بلکہ اپنے کردار اعمال اور محنت میں بھی ایمان کا عملی نمونہ پیش کریں۔ آمین۔

اہم اعلان (Disclaimer): اس مضمون میں پیش کردہ قرآنی آیات اور احادیث معتبر اسلامی مصادر سے لی گئی ہیں۔ تاہم یہ مضمون کسی مستند عالم دین یا مفتی کی رسمی مذہبی رائے کا متبادل نہیں ہے۔ دینی معاملات میں کوئی بھی اہم فیصلہ کرنے سے پہلے کسی قابل اعتماد عالم دین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مضمون میں بیان کردہ آراء مصنف کی ذاتی تحقیق پر مبنی ہیں اور worldatnet.com کی ادارتی پالیسی کے مطابق ہیں۔ اس مضمون کا مقصد اسلامی تعلیمات کی عام فہم اور مثبت پیشکش ہے۔

Post a Comment

0 Comments