پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، مصر، نائیجیریا، مراکش سمیت دنیا کے سینکڑوں ممالک میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسان ہر سال جادو، جہلی پیری فقیری اور نام نہاد روحانی علاج کے نام پر اربوں روپے گنواتے ہیں، اپنے خاندان تباہ کراتے ہیں اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ سادہ لوح عوام ہیں جو خوف، جہالت اور مایوسی میں کسی بھی جھوٹ کو سچ مان لیتے ہیں، اور دوسری طرف وہ چالاک ٹھگ ہیں جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کو لوٹتے ہیں۔ یہ صرف توہم پرستی کا معاملہ نہیں، یہ ایک پیچیدہ سماجی، مذہبی، نفسیاتی اور معاشی بحران ہے جسے سمجھنا اور اس سے نجات حاصل کرنا ہر باشعور مسلمان اور سمجھدار شہری کی ذمہ داری ہے۔
۱. جادو کیا ہے؟ تعریف، تاریخ اور ابتدا
جادو — جسے سحر، کالا علم، black magic یا occult بھی کہتے ہیں — وہ عمل ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مافوق الفطرت طاقتوں، آسیبوں، جنوں یا شیطانی قوتوں کے ذریعے کسی شخص کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، اس کی محبت یا نفرت پیدا کی جا سکتی ہے، یا اس کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ انسانی تاریخ میں جادو کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنی خود تہذیب۔ قدیم بابل، مصر، یونان اور ہندوستان — سب میں جادوگری کے نظام موجود تھے۔ قدیم مصریوں کے Book of the Dead میں جادوئی منتر ملتے ہیں، بابلی تختیوں پر سحر کی تعویذات کندہ ہیں، اور ہندو روایت میں "تنتر ودیا" صدیوں سے رائج ہے۔
عربی دنیا میں جادو کی تاریخ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ خود قرآن کریم میں اس کا واضح ذکر ہے۔ سورہ البقرہ میں ہاروت و ماروت کا واقعہ بیان ہوا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جادو ایک حقیقی لیکن سخت حرام اور نقصاندہ عمل ہے۔ اسلامی فقہ میں جادو کرنا کبیرہ گناہ بلکہ بعض علماء کے نزدیک کفر کی ایک قسم ہے۔
اس آیت سے چند اہم باتیں واضح ہوتی ہیں: اول یہ کہ جادو شیطانی عمل ہے، دوم یہ کہ یہ سکھایا جا سکتا ہے یعنی یہ انسانی تخلیق ہے نہ کہ الہی، اور سوم یہ کہ جادو کرنا کفر کی طرح گناہِ کبیرہ ہے۔ علامہ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ سحر یعنی جادو تین قسم کا ہے: اول وہ جو محض فریب نظر ہو، دوم وہ جو نفسیاتی اثر ڈالے، اور سوم وہ جو جنوں اور شیطانوں کی مدد سے کیا جائے — اور تینوں حرام ہیں۔
۲. قرآن و سنت میں جادو کا موقف
اسلام میں جادو کے بارے میں موقف انتہائی واضح ہے۔ قرآن کریم نے جادو کو گمراہی، شیطانی عمل اور کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ سورۃ الفلق میں اللہ تعالیٰ نے جادوگرنیوں کے شر سے اپنی پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جادو کا وجود قرآن تسلیم کرتا ہے — لیکن اس کا علاج دوسرے جادو میں نہیں بلکہ اللہ کی پناہ میں ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مہلک گناہوں میں سحر (جادو) کو شامل فرمایا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ حدیث موجود ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو" — صحابہؓ نے عرض کیا: وہ کیا ہیں یا رسول اللہ؟ آپؐ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے وقت پیٹھ پھیرنا، اور پاکدامن بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔"
رسول اللہ ﷺ خود بھی جادو کے شکار ہوئے تھے — لبید بن الاعصم یہودی نے آپؐ پر جادو کیا تھا جسے جادوئے لبید کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری کتاب الطب میں موجود ہے۔ اس واقعے کے کئی اہم سبق ہیں: اول یہ کہ نبی پاکؐ نے جادو ختم کرنے کے لیے کسی جادوگر یا عامل کے پاس نہیں گئے بلکہ اللہ کی وحی کا انتظار کیا اور قرآنی آیات سے شفا پائی۔ دوم یہ کہ آپؐ نے لبید پر بدلہ نہیں لیا — یہ بتاتا ہے کہ اسلام کا اصل حل قرآن اور دعا ہے، نہ کہ توڑ کے نام پر مزید جادو۔
علمائے کرام نے جادو کے جائز توڑ کو "رُقیہ شرعیہ" کا نام دیا ہے جس میں قرآنی آیات خصوصاً آیت الکرسی، سورہ فاتحہ، سورہ الفلق اور سورہ الناس کا ورد شامل ہے۔ یہ مستند علاج ہے جبکہ باقی سب جھوٹ اور فریب ہے۔
۳. جہلی پیری فقیری — ایک منظم دھوکا
پاکستان اور جنوبی ایشیا میں پیری مریدی کی ایک قدیم روایت ہے۔ اصل تصوف میں مرشد وہ ہوتا ہے جو مرید کو اللہ سے جوڑے، قرآن و سنت پر عمل کروائے اور روحانی تربیت دے۔ حضرت رومیؒ، حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت معین الدین چشتیؒ جیسے بزرگوں نے اسلام کی حقیقی روح کو پھیلایا۔ لیکن آج جو "پیری" دیکھنے میں آتی ہے وہ اس روحانی روایت کی توہین ہے۔
آج کا جہلی پیر وہ شخص ہے جو نہ قرآن جانتا ہے، نہ حدیث سمجھتا ہے، نہ خود نماز پڑھتا ہے — لیکن لمبی چادر، تسبیح، سرمہ لگی آنکھوں اور مزار جیسے ماحول سے ایک ایسا تاثر قائم کرتا ہے جو سادہ لوح عوام کو فوراً مرعوب کر دیتا ہے۔ یہ شخص پھر "کشف"، "کرامت" اور "روحانی علم" کے دعوے کرتا ہے اور لوگوں کے مسائل — روزگار، شادی، بیماری، دشمن، نظرِ بد — کو "حل" کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔
جعلی پیروں کے طریقہ واردات کے کئی عام نمونے ہیں جو بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ سب سے پہلا طریقہ "تشخیص" کا ڈرامہ ہے جس میں پیر ہاتھ دیکھ کر یا "غیب" سے بتاتا ہے کہ آپ پر جادو ہے، آپ کا فلاں رشتہ دار دشمن ہے، یا آپ کی قسمت میں بندش ہے — اس طرح خود وہ خوف پیدا کرتا ہے جو پہلے موجود نہ تھا۔ دوسرا طریقہ "علاج" کا لامتناہی سلسلہ ہے جس میں ہر بار نئی تعویذ، نئی دھونی، نئی چادر، نئے پیسے۔ تیسرا طریقہ "آزمائش" ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ جادو بہت سخت ہے، علاج کے لیے مزید روپے یا گھر کی عورت کو تنہا آنا ہوگا — اور یہیں سے جنسی استحصال شروع ہوتا ہے۔
۴. نفسیاتی تجزیہ: لوگ یقین کیوں کرتے ہیں؟
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ تعلیم یافتہ، سمجھدار اور ذہین لوگ بھی جادو اور جعلی پیروں کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ اس کا جواب نفسیات میں ہے۔ انسانی دماغ میں کئی ایسے خودکار تعصبات (cognitive biases) موجود ہیں جو ہمیں غیر عقلی باتوں پر یقین دلاتے ہیں۔
پہلا اہم عنصر "تصدیقی تعصب" (confirmation bias) ہے — ہم وہی باتیں یاد رکھتے ہیں جو ہمارے عقیدے کی تائید کریں اور خلاف شواہد کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جب پیر کا "علاج" ناکام ہو تو ہم کہتے ہیں "ہمارا یقین کمزور تھا" — جب اتفاقاً ٹھیک ہو جائیں تو "پیر صاحب کی کرامت" سمجھتے ہیں۔ دوسرا عنصر "اپوفینیا" ہے یعنی بے ترتیب واقعات میں کوئی پوشیدہ نمونہ ڈھونڈنا — جادو کا عقیدہ اسی نفسیاتی کمزوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
تیسرا اہم عنصر "ہیلپ لیس نیس" یعنی بے بسی کا احساس ہے۔ جب انسان شدید مایوسی، بیماری، غربت یا گھریلو ناچاقی کا سامنا کرتا ہے اور "سائنسی" یا "عقلی" راستے بند نظر آتے ہیں تو وہ مافوق الفطرت حل کی طرف بھاگتا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے — کمزوری نہیں، لیکن اس کمزوری کا استحصال بلا شبہ شیطانی عمل ہے۔
ماہرین نفسیات نے خاص طور پر جنوبی ایشیا میں یہ رجحان نوٹ کیا ہے کہ جسمانی بیماریاں جن کا مادی علاج نہ ہو سکے انہیں "جادو" یا "آسیب" سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ مرگی، شیزوفرینیا، ہسٹیریا اور بائی پولر ڈس آرڈر جیسی دماغی بیماریوں کو اکثر "جن آنا" یا "جادو کا اثر" سمجھ لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو وقت پر اصل علاج نہیں ملتا اور وہ خطرناک حد تک بیمار ہو جاتا ہے۔
۵. سائنس کیا کہتی ہے؟
سائنس نے کبھی بھی جادو کے وجود کو تسلیم نہیں کیا — اس لیے نہیں کہ سائنس دان مذہب دشمن ہیں بلکہ اس لیے کہ دنیا بھر میں ہزاروں تجربات کیے گئے لیکن کبھی بھی کوئی قابل تصدیق ثبوت نہیں ملا کہ جادو سے واقعی کوئی جسمانی، ذہنی یا دیگر تبدیلی آتی ہو۔
James Randi Educational Foundation نے ایک ملین ڈالر کا انعام پیش کیا کہ جو بھی کنٹرولڈ حالات میں مافوق الفطرت قوت ثابت کر دے وہ یہ رقم لے جائے — دہائیوں میں کوئی بھی جادوگر، پیر، فقیر یا عامل اس چیلنج کو پورا نہ کر سکا۔ اسی طرح بھارت میں "انڈین اسکیپٹکس" اور "بریکنگ دی اسپیل" جیسی تنظیموں نے سینکڑوں "معجزات" کو بے نقاب کیا ہے جو محض جادوگری کے ہنر، سیاہ نمک کی دھوئیں، سموہن (hypnosis) اور عام ٹرکس تھے۔
نیورو سائنس نے وضاحت کی ہے کہ انسانی دماغ "pattern recognition" پر اس قدر انحصار کرتا ہے کہ جہاں کوئی نمونہ نہ ہو وہاں بھی تلاش کر لیتا ہے — اسی لیے بادلوں میں چہرے، عام اتفاق میں "قدرت کا اشارہ" اور تصادم میں "جادو" دیکھتے ہیں۔ یہ دماغ کی ایک فطری لیکن گمراہ کن خصوصیت ہے۔
البتہ سائنس یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ رُقیہ شرعیہ، دعا اور مذہبی عقیدے کے نفسیاتی فوائد ہیں۔ Johns Hopkins کی تحقیق کے مطابق مذہبی لوگ ڈپریشن سے جلدی صحت یاب ہوتے ہیں اور ان کا مدافعتی نظام بھی بہتر کام کرتا ہے — یہ قرآن کی اس بات کی تائید ہے کہ "قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے"۔
۶. کس طرح لوگوں کا استحصال ہوتا ہے؟ طریقہ واردات کا مکمل تجزیہ
جعلی پیروں اور عاملوں کا طریقہ واردات کوئی اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم، پیشہ ورانہ اور نسل در نسل سکھایا جانے والا سلسلہ ہے۔ اسے سمجھنا ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔
الف — "کولڈ ریڈنگ" یعنی ٹھنڈی قراءت
پیر یا عامل عام سوالات کرتا ہے جو ہر کسی پر فٹ بیٹھتے ہیں: "آپ کے گھر میں کوئی بیمار ہے؟" "آپ کا کوئی دشمن ہے؟" "آپ کی کوئی خواہش پوری نہیں ہو رہی؟" — جب آپ "ہاں" کہتے ہیں تو وہ فوراً "کشف" کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی ہنر ہے جسے ہر ٹھگ سیکھتا ہے، نہ کوئی روحانی طاقت۔
ب — خوف کا ہتھیار
ایک بار اعتماد قائم ہو جائے تو پھر خوف کا ہتھیار استعمال ہوتا ہے: "آپ پر بہت سخت جادو ہے، اگر یہ نہ توڑا تو آپ کو یا آپ کے بچے کو بڑا نقصان ہو گا۔" یہ جملہ سنتے ہی ہر ماں باپ، ہر شوہر بیوی خوف میں آ جاتے ہیں اور پھر جو بھی قیمت مانگی جائے دے دیتے ہیں۔
ج — مالی استحصال کا بڑھتا سلسلہ
علاج کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ ہر ہفتے نئی "تعویذ"، نئی "دھونی"، نئے "چلے" کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر دفعہ نئی رقم وصول ہوتی ہے۔ ایک بار جو شخص اس جال میں پھنستا ہے وہ مہینوں بلکہ سالوں تک لٹتا رہتا ہے کیونکہ اب وہ یہ مان چکا ہے کہ علاج ہو رہا ہے اور بیچ میں چھوڑنا خطرناک ہے۔
د — خاندانوں میں تفریق اور نفرت
جعلی پیر کا سب سے خطرناک ہتھیار یہ ہے کہ وہ مریض کو بتاتا ہے کہ "فلاں رشتہ دار نے تم پر جادو کروایا ہے" — اکثر ساس، نند، دیور، بھائی، پڑوسی کا نام لیا جاتا ہے۔ اس سے محبت بھرے رشتے ٹوٹتے ہیں، عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور خاندان تباہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں قتل کے واقعات کا سبب یہی "جادو کا الزام" ہوتا ہے۔
ہ — جنسی استحصال
یہ سب سے گھناؤنا پہلو ہے۔ کئی جعلی عاملوں نے خواتین کو "علاج" کے نام پر جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ پاکستان میں ہر سال ایسے سینکڑوں مقدمات رپورٹ ہوتے ہیں — اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ زیادہ تر خاندان "بدنامی" کے ڈر سے رپورٹ نہیں کرتے۔
۷. غربت، تعلیم اور میڈیا کا کردار
جادو کے عقیدے کو زندہ رکھنے میں کئی سماجی اور معاشی عوامل کا کردار ہے۔ غربت سب سے بڑا عنصر ہے — جب کوئی شخص صحت کی سہولیات، قانونی مدد یا سماجی انصاف سے محروم ہو تو وہ مافوق الفطرت طاقتوں کی طرف رجوع کرتا ہے کیونکہ وہ سستی ہیں اور "یقین" دلاتی ہیں۔ جب ایک غریب ماں کا بچہ بیمار ہو اور ڈاکٹر کے پاس جانے کے پیسے نہ ہوں تو پیر کے "دم" کی امید ہی اس کے پاس بچتی ہے — اس کا استحصال سراسر ظلم ہے۔
تعلیم کا فقدان دوسرا اہم عنصر ہے۔ لیکن یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ جادو کا عقیدہ صرف ان پڑھوں تک محدود نہیں — پاکستان میں ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور وکیل بھی جعلی عاملوں کے شکار ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ "دینی اور تنقیدی تعلیم" کا فقدان ہے — ہم پڑھ تو جاتے ہیں لیکن سوچنا نہیں سیکھتے۔
میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک پر ہزاروں جعلی عاملوں کے ویڈیوز ہیں جو "مفت مشورہ" کی آڑ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ بعض ٹی وی چینلز پر رات کو "روحانی علاج" کے پروگرام چلتے ہیں جہاں براہ راست نمبروں پر فون کر کے "تعویذ" منگوائی جاتی ہے — اور یہ "روحانی" کاروبار ارب روپے سالانہ کماتا ہے۔
ثقافتی روایات بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بچپن سے سننے والی کہانیاں، دادی نانی کی باتیں، گاؤں کی روایات — یہ سب مل کر ایک ایسا ذہنی ڈھانچہ بناتے ہیں جو جادو کو فطری حقیقت مان لیتا ہے۔ اس ثقافتی ورثے کی عزت ضروری ہے لیکن اسے ٹھگوں کے استحصال سے بچانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
۸. علمائے کرام کا موقف اور مستند راہنمائی
دور حاضر کے جلیل القدر علماء نے اس موضوع پر انتہائی واضح موقف اختیار کیا ہے۔ Islam Q&A پر شیخ محمد صالح المنجد نے لکھا ہے کہ جادو کا علاج صرف رُقیہ شرعیہ ہے اور کسی جادوگر یا کاہن کے پاس جانا سخت حرام ہے۔
مفتی منیب الرحمان صاحب نے ایک انٹرویو میں فرمایا: "پاکستان میں 99 فیصد عامل جھوٹے اور ٹھگ ہیں۔ جو شخص کسی کو یہ کہے کہ تم پر جادو ہے وہ پہلے خود کو ثابت کرے — قرآن اور سنت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ کوئی انسان صرف دیکھ کر جادو پہچان سکتا ہے۔"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص عَرَّاف (غیب بتانے والے) یا کاہن کے پاس گیا اور اس نے جو کچھ کہا اسے سچ مانا، اس نے محمدؐ پر نازل کردہ وحی کا انکار کیا۔"
علامہ ابن القیمؒ نے اپنی کتاب "زاد المعاد" میں رُقیہ کی تفصیل لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ نبی کریمؐ کی تین اقسام کی روحانی طب تھی: اول قلبی روح یعنی دعا اور ذکر، دوم دوائی جسمانی یعنی جڑی بوٹیاں اور علاج، اور سوم ان دونوں کا مجموعہ — کسی جادوگر یا جعلی عامل کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔
پاکستان کی معروف دینی جماعتوں نے بھی جہلی پیری کے خلاف فتوے جاری کیے ہیں۔ دار الافتاء اور جامعہ اشرفیہ لاہور سمیت کئی اداروں نے واضح کیا ہے کہ "عاملوں" کی اکثریت نہ صرف جھوٹی ہے بلکہ ان کا کام اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔
۹. کیا جادو "اصل" ہے؟ ایک متوازن اسلامی موقف
یہاں ایک ضروری وضاحت کی جانی چاہیے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اسلام جادو کے وجود کو تسلیم کرتا ہے — قرآن نے اسے بیان کیا، نبیؐ نے اس کے حرام ہونے پر زور دیا، اور صحابہؓ نے اس سے واسطہ پڑنے کا ذکر کیا ہے۔ لہذا یہ نہیں کہنا چاہیے کہ جادو سرے سے موجود نہیں۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ: اول، جادو ایک حرام اور شیطانی عمل ہے جو اللہ کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ دوم، اس کا علاج قرآن اور سنت ہے نہ کہ "توڑ" کے نام پر مزید جادو۔ سوم، پاکستان اور جنوبی ایشیا میں جو 99 فیصد "جادو کی تشخیص" کی جاتی ہے وہ جھوٹی ہوتی ہے اور صرف پیسے لوٹنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ چہارم، جسمانی اور ذہنی بیماریوں کو جادو سمجھ کر اصل علاج سے غافل ہونا خود ایک گناہ ہے۔
نظرِ بد کا ثبوت قرآن و سنت میں ہے — نبیؐ نے فرمایا "العین حق" یعنی نظر لگنا حق ہے (صحیح مسلم)۔ لیکن اس کا علاج بھی رُقیہ، دعا اور اللہ کی پناہ ہے نہ کہ "نظر اتارنے والے" ٹھگوں کے پاس جانا جو موم بتی، کالے کپڑے اور لیموں کے ذریعے "نظر اتارتے" ہیں۔
۱۰. حل کیا ہے؟ عملی اقدامات
حکومتی سطح پر
پاکستان میں پہلے سے Prevention of Anti-Social Practices Act موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضرورت ہے کہ جعلی عاملوں اور "روحانی علاج" کے نام پر ٹھگی کو قانونی جرم قرار دیا جائے، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ان کے اشتہارات پر پابندی لگائی جائے، اور مزاروں پر ہونے والے غیر شرعی کاموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
علماء کی ذمہ داری
مساجد اور مدارس کو اس موضوع پر عوامی آگاہی میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہر جمعے کے خطبے میں، ہر دینی درس میں رُقیہ شرعیہ کی اہمیت اور جادو کی حرمت کو بیان کیا جانا چاہیے۔ علماء کو چاہیے کہ جہلی پیروں کو مسجد اور مدرسے کے پلیٹ فارم سے بے نقاب کریں۔
نفسیاتی اور طبی خدمات
ذہنی بیماریوں کو جادو کا اثر سمجھ کر نظرانداز کرنا بند کرنا ہوگا۔ ڈاکٹروں کو چاہیے کہ مریضوں کو یہ سمجھائیں کہ مرگی، سکیزوفرینیا، ہسٹیریا اور دیگر نفسیاتی مسائل قابل علاج بیماریاں ہیں۔ حکومت کو سستے اور قابل رسائی نفسیاتی علاج کی سہولیات عام کرنی چاہئیں۔
تعلیمی اصلاح
اسکول کی سطح سے تنقیدی سوچ (critical thinking) سکھانا ضروری ہے۔ نصاب میں دینی حوالے سے جادو کی حرمت اور سائنسی حوالے سے اس کی غیر حقیقی نوعیت دونوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری
یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک پر جعلی عاملوں کے اشتہارات کو رپورٹ کرنا ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) کو ٹی وی چینلوں پر جھوٹے "روحانی علاج" کے پروگراموں پر فوری پابندی لگانی چاہیے۔
خاندانی سطح پر آگاہی
گھر میں بچوں کو قرآن اور سنت کی روشنی میں جادو کی حقیقت بتائی جائے۔ خاندان کے افراد کو آپس میں کھلی گفتگو کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ کوئی بھی تنہائی میں ٹھگ کا شکار نہ ہو۔ اگر کوئی رشتہ دار جادو کے دھوکے میں پڑ جائے تو اسے نفرت یا طعنے سے نہیں بلکہ پیار، علم اور صبر سے سمجھانا چاہیے۔
۱۱. رُقیہ شرعیہ — اصل اور جائز علاج
اسلام نے جادو اور نظر کے اثرات سے بچاؤ کا مکمل نظام دیا ہے جسے رُقیہ شرعیہ کہتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر مفت، قرآن و سنت سے ثابت اور کسی بھی مسلمان کے لیے دستیاب ہے — اس کے لیے کسی پیر یا عامل کی ضرورت نہیں۔
اگر کوئی مستند عالم یا حافظ رُقیہ شرعیہ کی خدمت دے اور اس کے لیے کوئی مناسب ہدیہ قبول کرے تو یہ جائز ہے — لیکن یاد رہے کہ کوئی بھی "عامل" آپ کو "تشخیص" کے نام پر ڈرائے نہیں، کوئی خفیہ "عمل" نہ ہو، اور کوئی بھی غیر شرعی کام نہ کرایا جائے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی بات ہو تو فوری طور پر چھوڑ دیں۔
۱۲. خلاصہ اور نتیجہ — سماجی برائی یا مذہبی عقیدے کا استحصال؟
اس پورے تجزیے کے بعد یہ جواب واضح ہو جاتا ہے: جادو کا عقیدہ اسلام میں موجود ہے لیکن اس کا حل صرف قرآن و سنت میں ہے — یہ اصل مذہبی تعلیم ہے۔ لیکن جعلی پیر، جھوٹے عامل اور توہم پرستی کے ذریعے لاکھوں لوگوں کا معاشی، جنسی، ذہنی اور سماجی استحصال ایک سنگین سماجی برائی ہے جس کا اسلام، قرآن یا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔
جہلی پیری فقیری محض ایک کاروبار ہے جو مذہب کی چادر اوڑھ کر چلتا ہے۔ یہ نہ صرف لوگوں کو لوٹتا ہے بلکہ خاندانوں کو توڑتا ہے، بیماروں کو اصل علاج سے دور کرتا ہے، اور معاشرے میں نفرت، خوف اور بداعتمادی پھیلاتا ہے۔ قرآن کریم نے سحر کو کفر کے ہم پلہ قرار دیا ہے — تو جو لوگ اسے پھیلاتے ہیں وہ نہ صرف خود گناہگار ہیں بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اللہ پر مکمل توکل کرے، قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرے، ڈاکٹروں اور ماہرین سے مشورہ کرے، اور کسی بھی ایسے شخص سے دور رہے جو اسے "جادو" کا خوف دلائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "جو اللہ پر توکل کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔" (سورۃ الطلاق: ۳) — یہی سب سے بڑا "توڑ" ہے، یہی سب سے مضبوط "تعویذ" ہے، اور یہی سچا عقیدہ ہے۔
حوالہ جات و مزید مطالعہ:
quran.com — قرآن کریم مع ترجمہ و تفسیر | sunnah.com — کتب احادیث | islamqa.info — فتاویٰ اور مسائل | dawateislami.net — دینی معلومات | PEMRA — شکایت درج کرائیں

0 Comments