یہ موضوع اپنی فطرت میں نہایت حساس بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ حساس اس لیے کہ مختلف مسلم مکاتبِ فکر نے اس کے بعض پہلوؤں کی مختلف تعبیرات پیش کی ہیں، اور دلچسپ اس لیے کہ یہ براہِ راست انسان کے دل، روحانیت، اخلاص اور اللہ کے ساتھ تعلق سے جڑا ہوا ہے۔ اس مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ قرآن، صحیح احادیث اور معتبر علماء کی آراء کی روشنی میں ایک متوازن اور جامع تصویر پیش کی جائے تاکہ کسی بھی مسلمان کے جذبات مجروح نہ ہوں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "خبردار! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔" (سورۃ یونس: 62-63)
یہ آیات اسلامی فکر میں ولایت کی بنیاد ہیں۔ غور کیا جائے تو یہاں کسی خاص لباس، مخصوص نام، ظاہری کرامت یا دنیاوی شہرت کو معیار نہیں بنایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف دو بنیادی چیزیں بیان فرمائیں: ایمان اور تقویٰ۔
علماء نے لکھا کہ اگر کسی شخص میں سچا ایمان اور عملی تقویٰ موجود ہو تو وہ اللہ کے قرب کے راستے پر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولایت کوئی الگ مخلوق یا فوق الفطرت درجہ نہیں بلکہ بندگی کی اعلیٰ کیفیت کا نام ہے۔
لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ ولی وہی ہوگا جس کے اردگرد ہزاروں لوگ ہوں، جس کا نام دور دور تک مشہور ہو یا جس کے متعلق غیر معمولی واقعات بیان کیے جاتے ہوں، لیکن قرآن کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اصل معیار دل کی کیفیت ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا ذکر فرمایا۔ وہ نہ صحابی تھے، نہ مشہور خطیب اور نہ سیاسی شخصیت۔ وہ اپنی والدہ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے اخلاص اور نیکی کا ذکر فرمایا۔
اویس قرنی رحمہ اللہ کی مثال اسلامی تاریخ میں ایک بڑی مثال بن گئی کہ بعض اوقات اللہ کے محبوب بندے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ ان کی شہرت زمین پر کم مگر آسمان میں زیادہ ہوتی ہے۔
اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ایک روایت کا مفہوم آتا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے ہوں، لباس سادہ ہو، لوگ انہیں اہمیت نہ دیتے ہوں، لیکن اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔
یہ حدیث انسان کو ظاہری معیاروں سے نکال کر باطنی حقیقت کی طرف لے جاتی ہے۔ دنیا میں انسان کا مقام اکثر دولت، شہرت، عہدہ اور ظاہری حیثیت سے ناپا جاتا ہے لیکن اسلام دل کی کیفیت کو اصل بناتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں بے شمار ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے خاموشی سے زندگی گزاری۔ وہ راتوں میں عبادت کرتے تھے، دن میں محنت کرتے تھے، لوگوں کی مدد کرتے تھے اور اپنی نیکیوں کو چھپاتے تھے۔ بعض علماء نے کہا کہ نیکی کو چھپانا بعض اوقات نیکی کو ظاہر کرنے سے زیادہ افضل ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں ریاکاری سے حفاظت ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے سات ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں قیامت کے دن اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا۔ ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جو اتنے اخلاص سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کو بائیں ہاتھ تک نہ معلوم ہو۔
اس حدیث میں اخلاص کی غیر معمولی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ممکن ہے کوئی انسان لوگوں کے سامنے بڑے اعمال نہ کرے لیکن چھپ کر ایسے اعمال کرتا ہو جو اللہ کے نزدیک بہت محبوب ہوں۔
یہاں ایک اور بات بھی سمجھنا ضروری ہے۔ عوامی سطح پر بعض اوقات پوشیدہ اولیاء کے بارے میں ایسی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں جن کے بارے میں مضبوط شرعی دلائل موجود نہیں ہوتے۔ بعض روایات میں مخصوص اعداد یا درجات مثلاً ابدال، اقطاب اور دیگر اصطلاحات بیان کی جاتی ہیں۔ علماء نے ان روایات کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں۔ بعض نے ان میں سے بعض روایات کو قبول کیا جبکہ بعض محدثین نے ان کی اسناد پر گفتگو کی۔
اسی وجہ سے معتدل راستہ یہی ہے کہ جن باتوں کی بنیاد قرآن اور صحیح حدیث پر ہو ان پر اعتماد کیا جائے اور جن امور میں اختلاف ہو ان میں وسعتِ نظر رکھی جائے۔
امام نووی، امام ابن حجر، امام غزالی، شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ اور دیگر علماء نے اللہ کے نیک بندوں کے فضائل کا ذکر کیا ہے، تاہم سب نے اس بات پر زور دیا کہ اصل معیار تقویٰ اور شریعت کی پیروی ہے۔
ایک بہت اہم سوال یہ ہے کہ اگر پوشیدہ نیک بندے موجود ہوتے ہیں تو انہیں چھپایا کیوں جاتا ہے؟ بعض علماء نے لکھا کہ شہرت بعض اوقات انسان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ انسان تعریف سن کر تکبر یا ریاکاری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے بعض صالحین شہرت سے دور رہنے کو پسند کرتے تھے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ کچھ لوگ اپنی نیکیوں کو اس طرح چھپاتے تھے جیسے لوگ اپنے گناہوں کو چھپاتے ہیں۔
یہ بات انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاید اللہ کے بعض محبوب بندے ہمارے اردگرد ہی موجود ہوں۔ شاید کوئی مزدور، کوئی استاد، کوئی دکاندار، کوئی غریب شخص یا کوئی خاموش عبادت گزار اللہ کے نزدیک بہت بلند مقام رکھتا ہو۔
اسلام ہمیں لوگوں کے دلوں کے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ اسی لیے ہمیں کسی شخص کے بارے میں قطعی دعوے سے بچنا چاہیے۔
اسلام کا اصل پیغام یہ نہیں کہ انسان پوشیدہ اولیاء کو تلاش کرتا پھرے بلکہ اصل پیغام یہ ہے کہ انسان خود اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
اسلامی تاریخ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے دور میں بھی ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں لوگوں نے اپنی نیکیوں کو شہرت سے دور رکھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رات کے وقت خاموشی سے بعض غریب خاندانوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو بعد میں معلوم ہوا کہ مدد کرنے والا کون تھا۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بہت سے صحابہ کرام کے بارے میں بھی یہ پہلو ملتا ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو نمایاں کرنے سے بچتے تھے۔
تابعین کے زمانے میں بھی ایسے افراد موجود تھے جن کی زندگی کا بڑا حصہ خاموش عبادت، علم اور لوگوں کی خدمت میں گزرا۔ ان کی خواہش شہرت نہیں بلکہ اللہ کی رضا تھی۔
کرامات کا مسئلہ بھی اس موضوع سے جڑا ہوا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک اولیاء کی کرامات اصولی طور پر ثابت ہیں۔ قرآن مجید میں حضرت مریم علیہا السلام کے واقعے اور بعض دیگر واقعات سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ غیر معمولی مدد فرما سکتا ہے۔ تاہم علماء نے واضح کیا کہ کرامت ولایت کی شرط نہیں ہے۔ کوئی شخص کرامت کے بغیر بھی اللہ کا مقرب بندہ ہوسکتا ہے۔
بعض لوگ صرف غیر معمولی واقعات کو ولایت کی نشانی سمجھتے ہیں جبکہ علماء نے اس تصور کی اصلاح کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل کرامت استقامت ہے۔ اگر ایک انسان نماز، سچائی، امانت، حسن اخلاق اور اللہ کی اطاعت پر قائم ہے تو یہ عظیم چیز ہے۔
ابدال، اقطاب اور بعض دیگر اصطلاحات بھی اسلامی تاریخ اور صوفیانہ لٹریچر میں پائی جاتی ہیں۔ اس بارے میں اہل علم کے درمیان تفصیلی گفتگو موجود ہے۔ بعض علماء نے ان اصطلاحات کو بعض روایات کی بنیاد پر قبول کیا جبکہ بہت سے محدثین نے بعض روایات کی سند پر بحث کی۔ اسی لیے مناسب راستہ یہ ہے کہ ان مسائل میں شدت یا انکار کے بجائے علمی اعتدال اختیار کیا جائے۔
اسلام کی بنیادی تعلیم یہی ہے کہ اللہ کے مقرب بندوں کا وجود ممکن اور ثابت ہے، لیکن ان کی قطعی شناخت کا دعویٰ کرنا آسان نہیں۔
اس موضوع سے متعلق ایک اور پہلو بھی اسلامی تاریخ اور صوفیانہ لٹریچر میں کثرت سے بیان ہوتا ہے، اور وہ بعض روحانی درجات یا مراتب کا تصور ہے۔ مختلف کتب میں قطب، ابدال، اوتاد، نجباء اور نقباء جیسی اصطلاحات ملتی ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان اصطلاحات کی تمام تفصیلات قرآن مجید یا صحیح احادیث میں صراحت کے ساتھ موجود نہیں ہیں، اور ان کے بارے میں علماء کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ اسی لیے اس موضوع کو اعتدال اور احترام کے ساتھ سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔
بعض روایات اور روحانی روایات کے مطابق "قطب" سے مراد ایسا بلند مرتبہ ولی لیا جاتا ہے جسے اپنے زمانے کے روحانی نظام میں مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ بعض صوفیاء نے اسے روحانی محور قرار دیا، اگرچہ اس کی تفصیلی شکل کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔
"ابدال" کا لفظ بدلنے والوں یا متبادل افراد کے معنی میں آتا ہے۔ بعض روایات میں ذکر کیا گیا کہ جب ایک نیک شخص دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا شخص لے لیتا ہے۔ محدثین نے ان روایات کی اسناد پر مختلف گفتگو کی ہے، تاہم اسلامی لٹریچر میں یہ اصطلاح معروف رہی ہے۔
"اوتاد" کا لفظ عربی میں کھونٹوں یا ستونوں کے معنی دیتا ہے۔ بعض روحانی تشریحات میں انہیں ایسے افراد کہا گیا جن کے ذریعے زمین کے مختلف حصوں میں خیر اور استحکام کے پہلو بیان کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح "نجباء" کے لفظ کا معنی منتخب یا ممتاز افراد ہے جبکہ "نقباء" کے لفظ کا مفہوم نگران یا ذمہ دار افراد سے متعلق بیان کیا گیا ہے۔
یہ تمام تفصیلات زیادہ تر صوفیانہ روایات اور بعض تاریخی کتب میں ملتی ہیں۔ بہت سے علماء نے انہیں بطور امکان ذکر کیا جبکہ بہت سے اہل علم نے اس بارے میں احتیاط کا مشورہ دیا۔ تقریباً تمام مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کی اصل قدر ایمان، تقویٰ اور سنت کی پیروی ہے، نہ کہ محض کسی روحانی لقب سے وابستگی۔
آج کے دور میں ایک اور غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے۔ بعض لوگ سوشل میڈیا کی شہرت، غیر معمولی دعووں یا جذباتی قصوں کی بنیاد پر کسی شخصیت کے بارے میں فوری فیصلے کر لیتے ہیں۔ اسلام انسان کو احتیاط، تحقیق اور حسنِ ظن کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر مشہور انسان لازمی طور پر ولی نہیں اور ہر گمنام انسان لازمی طور پر اللہ کا مقرب نہیں۔ اصل حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔
یہ تصور انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے۔ جب انسان یہ سوچتا ہے کہ شاید اللہ کے بعض محبوب بندے اس کے اردگرد عام لوگوں کی صورت میں موجود ہوں تو اس کے رویے میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کو حقیر سمجھنے سے بچتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ یہ حدیث اس پورے موضوع کے بنیادی پیغام کو واضح کرتی ہے۔
اسلامی تصوف کی تاریخ میں بعض معروف علماء اور بزرگوں نے روحانی مراتب کے ان تصورات پر گفتگو کی ہے۔ entity["people","Imam Abu Hamid al-Ghazali","Islamic theologian and scholar"] نے روحانی تزکیہ اور باطنی اصلاح کی اہمیت پر زور دیا جبکہ entity["people","Abdul Qadir Gilani","Islamic scholar and theologian"] کے ملفوظات اور تعلیمات میں بھی اللہ کے نیک بندوں کی صفات پر گفتگو ملتی ہے۔ اسی طرح entity["people","Ibn Taymiyyah","Islamic scholar"] نے بھی اولیاء اللہ کے تصور کو قرآن و سنت کے دائرے میں سمجھنے پر زور دیا۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے مختلف حلقوں نے ان اصطلاحات کی تشریح الگ انداز میں کی ہے۔ بعض حلقے انہیں روحانی حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں جبکہ بعض انہیں علامتی یا محدود دائرے میں دیکھتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کی اصل پہچان اللہ کی اطاعت، رسول ﷺ کی اتباع، عاجزی اور حسن اخلاق ہے۔
آج کے زمانے میں سوشل میڈیا نے ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے جہاں بعض اوقات روحانی شخصیت اور شہرت کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جاتا ہے۔ لاکھوں فالوورز، جذباتی قصے یا غیر معمولی دعوے کسی شخص کے روحانی مقام کا یقینی معیار نہیں ہوتے۔ اسلام انسان کو ظاہری چمک کے بجائے کردار، علم، تقویٰ اور اخلاص کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
SEO کلیدی الفاظ: پوشیدہ اولیاء، اولیاء اللہ، قطب، ابدال، اوتاد، اسلامی تصوف، ولایت، قرآن و حدیث میں اولیاء، اویس قرنی، اللہ کے نیک بندے
آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اسلام میں اللہ کے نیک بندوں کا تصور ایک حقیقت ہے، لیکن ان کی اصل پہچان شہرت، لباس یا غیر معمولی دعوے نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ، اخلاص، عاجزی اور اللہ کی اطاعت ہے۔ ممکن ہے دنیا انہیں نہ جانتی ہو لیکن اللہ انہیں جانتا ہو، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

0 Comments